خالد حشم اللہ
گروپ ایڈیٹر۔۔ آزاد نیوز
تین ریاستوں میں آئے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے مدتوں بعد کانگریس اور پارٹی حامیوں کو راحت نصیب ہوئی ہے. 2014 کے بعد سے مسلسل مل رہی ہار کے بعد اس جیت نے کانگریس میں ایک نئی روح پھونک دی ہے. ان تین ریاستوں میں بی جے کو شکست فاش دیکر عوام نے کانگریس کو فتحیاب کیا اور ساتھ ہی بی جے پی کو “تین طلاق” دے کر اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے. ان نتائج نے ہندوستان کی سیکولر طاقت کو مزید مستحکم کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت “کچھ بھی” بولنے سے نہیں بلکہ “کچھ” کرنے سے باقی رہتی ہے. یہ بات سچ ہے کہ عوام آپ کے قول پر یقین کرکے آپ کو اقتدار کی کرسی پر براجمان کراتی ہے, لیکن سیاست کا دستور یہ بھی رہا ہے کہ عوام آپ کی کہی ہوئی بات پر عمل نہ کرنے کے جرم میں حکومت سے بے دخل بھی کر سکتی ہے. کچھ ایسا ہی منظرنامہ سیاسی افق پر حالیہ اسمبلی انتخابات میں ابھر کر سامنے آیا ہے. وعدوں کی بوچھار کر کے اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی عمل کی ایک بوند بھی نہ برسا سکی. اس عملی قحط سالی سے تنگ عوام نے بی جے پی کو سبق سکھایا اور کیا خوب سکھایا. ایک ایسا سبق جس کی امید بھی نہیں کی جا رہی تھی. خود بی جے پی والے اپنے اس غیر متوقع انجام سے بے خبر تھے۔۔
ایک سیکولر ملک میں گائے, مندر کا سہارا لیکر حکومت کی ڈور کو زیادہ دیر تک کھینچا نہیں جا سکتا ہے
ایک سیکولر ملک میں گائے, مندر کا سہارا لیکر حکومت کی ڈور کو زیادہ دیر تک کھینچا نہیں جا سکتا ہے.اس ملک میں جذباتی لوگوں کے ساتھ ساتھ حساس اور اہل عقل و خرد افراد بھی رہتے ہیں, جو آپ کی سیاسی چالوں کو بخوبی سمجھتے اور اس پر عملی رد عمل کا اظہار بھی کرتے ہیں. کسی کو “پپو” کہہ کر اور کسی کے بھگوان کی ذات کو نشانہ بنا کر اگر آپ سوچتے ہیں کہ ہم حکومت بنا لیں گے تو یہ آپ کی سیاسی کم عقلی کا ثبوت ہے. مانا کہ ایک بار آپ نے عوام کے مذہبی جذبات پر وار کر کے اقتدار کی کرسی پر قبضہ جما لیا, لیکن ایک جمہوری ملک میں ہمیشہ یہی ہتھکنڈہ کام نہیں آ سکتا. ایک گانا بچپن میں سنا کرتا تھا”پبلک سب جانتی ہے” اس وقت اس گانے کی معنوی اہمیت سے اس قدر واقفیت نہیں تھی. یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کیونکہ میں بچہ تھا, لیکن آج یہ دیکھ کر مجھے بے حد تعجب ہو رہا ہے کہ اس بات سے بی جے پی والے بھی نابلد ہیں کہ “پبلک سب جانتی ہے”. عوام کو آپ زیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بنا سکتے. جب وہ 70 سال کی حکومت کو گرا سکتی ہے تو یہ 5 اور 15 سالوں کی حکومتیں “چہ معنی دارد”؟.
چھتیس گڑھ میں پچھلے 15 سال سے رمن سنگھ کی سرکار تھی. ایک طرح سے یہ صوبہ بی جے پی کا گڑھ تھا. 15 سال کی رمن سرکار کو اب پوری طرح سے عوام نے دھتکار دیا ہے. راجستھان کے ریگستانوں میں بھی پانچ سال کنول کھلنے کے بعد آخرکار مرجھا ہی گئی.ان میں سے سب سے اہم الیکشن تھا مدھیہ پردیش کا, کیونکہ یہاں بھی 15 سالوں سے بی جے پی اقتدار کی کرسی پر قابض تھی اور یہاں سب سے زیادہ 230 سیٹیں تھیں, جن کو لیکر کافی گہماگہمی دیکھنے کو ملی. آخرکار 114 سیٹوں پر قبضہ کر کے کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری. حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ دو سیٹوں پر دیگر پارٹیوں سے سمجھوتہ کر کے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کر دیا. 15 سال کی حکومت کا غرور دیکھتے ہی دیکھتے آخرکار عوام نے توڑ ہی دیا۔۔
سیکولر ملک میں “کچھ بھی” بولنے کی آزادی ضرور ہے لیکن اس کی بھی ایک آئینی اور قانونی حد ہے,لیکن بی جے پی اقتدار کے جوش میں ہر حد سے گزرنے پر آمادہ تھی. ظلم و استحصال, ناانصافی اور وعدہ خلافی سے عوام اس قدر عاجز آ چکی تھی کہ اس کیلئے حکومت کو سبق سکھانا ضروری تھا. ایک طرح سے سیکولرازم کا ڈھانچہ منہدم ہو رہا تھا, آئین کا وجود خطرے میں تھا, عدلیہ کی روح کپکپا رہی تھی اور ساتھ ہی تفتیشی ایجنسیوں کی شفافیت پر بدعنوانی کا داغ لگ گیا تھا. ملک پر منڈلا رہے ان تمام سنگین خطرات کو دور کرنے کیلئے بی جے پی کا ہارنا بے حد ضروری تھا۔

