ثناءاللہ صادق تیمی
ہمارے دوست بے نام خاں کو ہم سے یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم مولانا ابو الکلام آزاد سے عقیدت کی حد تک محبت رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مولانا کی خوبیاں تو یاد رہتی ہیں ان کی خامیوں پر نظر نہیں جاتی۔باتوں باتوں میں وہ یہ بھی بتلاتے ہیں کہ در اصل مولانا نہایت ذہین آدمی تھے ،لیکن جتنا کچھ و ہ کر سکتے تھے ،اتنا کر نہیں سکے ۔بہت حد تک ان کے اندر انانیت پائی جاتی تھی ۔وہ خلوت پسند تھے اور خود کو بہت عظیم سمجھتے تھے ۔ آزادی سے پہلے جو حال رہا سو رہا لیکن آزادی کے بعد تو وہ بہت کچھ کر سکتے تھے ،پوری امت مسلمہ ہند کے تنہا امام تھے ،کیوں کہ اب ان کا کوئی سیاسی حریف نہ رہا تھا ، تاریخ کی سچائی یہ ہے کہ مولانا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کر سکے ۔حکومت ہند میں وزیر تعلیم کا عہدہ تو ضرور سنبھالا لیکن اپنی امت کو سنبھالنے کا کام نہ کر سکے ۔اب یہ بات کہاں تک درست ہے اس کا علم تو اللہ کو ہے ،ورنہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ مولانا شراب نوشی تک کیا کرتے تھے ۔نماز پڑھتے تھے یا نہیں ،یہ معاملہ بھی مختلف فیہ ہی ہے ۔
ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سچ کو چھپا نہیں پاتے ۔لوگوں کو جھوٹ سنتے سنتے ایسی لت لگ گئی ہے کہ سچ ان کو کڑوا سے بھی زیادہ تلخ لگنے لگتا ہے ۔کسی آدمی کو پچھاڑنا ہو تو یہ کہہ دینا کہ آپ نہیں ،آپ کی عقیدت بول رہی ہے ۔بہت کارگر نسخہ ہے ۔ چنانچہ میں نے مولانا ابو لکلام آزاد سے متعلق اپنی بات شروع کرنی چاہی ہی تھی کہ ہمارے دوست بول پڑے ،یہ تو آپ کی عقیدت ہے ۔ ہم نے بھی کمر کسا ہوا تھا سوا نہیں سننے پر مجبور کیا اور بتلایا کہ یہ علمی بحث کا بالکل بھی طریقہ نہیں کہ آپ کچھ اس قسم کے جملوں کے ذریعے اپنے مخالف کو چت کرنے کی نا کام کوشش کریں ۔ درحقیقت یہ کائیاں لوگوں کا کام ہے اور اس سے شخصیت کے بودے پن کا احساس ہوتا ہے ۔ ہماری ان باتوں کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے دوست ہمیں سننے پر مجبور ہو گئے ۔ کائیاں سے کائیاں آدمی بھی اس الزام سے بھاگتا ہے ۔
مولانا ابو لکلام آزاد کے کچھ عقیدت مند انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوں گے اور یہ عین ممکن ہے کہ کچھ لوگوں نے انہیں بھی عام دوسرے بزرگوں کی طرح معصوم عن الخطا، مافوق البشر سمجھ لیا ہوگا لیکن ان کو جاننے والا،ان کی تحریروں سے آشنا اور ان کی شخصیت سے آگاہ آدمی اس قسم کی حماقت کا شکار نہیں ہو سکتا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جب مولانا ابو لکلام آزاد منظر نامے پر آئے تو چھاتے چلے گیے ،جس طرف رخ کیا تاریخ رقم کر دی اور ایسے نقوش چھوڑ ے جو ہمیشہ کاروان حق کی رہنمائی کرتے رہیں گے ۔ ع
جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں
مولانا آزاد کے بارے میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ مولانا اگر سیاست کی پر پیچ وادی میں نہ ہوتے تو اپنے وقت کے ابن تیمیہ ہوتے ۔ان کا ذہن بلا کا تھا اور جولانی طبع کی بات ہی کیا ۔ فحدث عن بحر ولا حرج ۔
لیکن ہمارا مقصد لوگوں کی کہی ہوئی باتوں سے قطع نظرمعروضی انداز میں اس حقیقت کا جائزہ لینا ہے کہ مولانا نے اپنی زندگی میں اللہ کے فضل و کرم سے کیا کچھ کیا اور آپ کی ذات سے اللہ نے کیا کیا کام لیا ۔
بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ مولانا ابو لکلام آزاد کے جریدہ ”الھلال “اور ”البلاغ“کا مقصد تحریک آزادی ہند کو تقویت پہنچانا اور مسلمانوں کو جہاد فی سبیل حریة الوطن (وطن کی راہ میں جہاد )پر ابھارنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس بات میں صداقت بھی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں تو ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے۔ لیکن بات صر ف یہ نہیں ہے ، صرف یہی ایک مقصد نہیں تھا ۔ وسیع تر معنوں میں سچائی یہ ہے کہ الھلال اور البلاغ کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے اندر دین کی سوجھ بوجھ اور حقیقی عملی اسپرٹ پیدا کرنا تھا ۔مولانا نے ایک ایک مسئلے پر نہایت علمی اور قرآن و سنت کے مضبوط دلائل سے روشنی ڈالی اور اس خوبی اور اسلوب کی اس قوت سے اسلام کی حقانیت کا پر چار کیا کہ بڑا بڑا دماغ دم بخود رہ گیا اور لوگ دیوانہ وار دین خدا سے قریب ہونے لگے ۔ نئی تعلیم کے زیر اثر خاص طور سے پڑھے لکھے جوانوں کے اندر جو دین بیزاری پنپتی جا رہی تھی ،وہ تنہا شخصیت مولانا آزاد ہی کی تھی جس نے اس سیلاب کو روکا اور پھر سے نوجوانوں کو صحیح اسلام سے جوڑا ۔ در اصل پہلی بار مولانا آزاد نے ہی اپنی تحریروں کی قوت اور استدلال سے ثابت کر دکھلایا کہ دین صرف چند وقت کی عبادتوں سے عبارت نہیں بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی اور کافی شافی دوائے امراض حیات ہے۔
مولانا نے قرآن حکیم کا نہایت غائرانہ مطالعہ کیا تھا بقول خود انہوں نے ایک ایک آیت پر کئی کئی وادیاں قطع کی تھیں اور یہ حقیقت مولانا کی تحریروں میں بہت اچھی طرح جلوہ گر ہوتی ہے ۔ مولانا کے چند بڑے کارناموں میں بلا شبہ ان کی تفسیرترجمان القرآن کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور انصا ف کی بات یہ ہے کہ مختلف اور متعدد اردو ترجمہ و تفسیر قرآن میں ترجمان القرآن کی بات ہی کچھ اور ہے ۔خاص طور سے اس کا مقدمہ تو ایسا ہے کہ اسے ہر تفسیر قرآن سے پہلے جلی حروف میں لکھا جانا چاہیے ۔عام لوگوں کے لیے نہایت سلیس اور قابل فہم زبان میں اردو کا اتنا بہترین قالب دینا صرف مولانا آزاد کا حصہ تھا ۔اگر مولانا نے صرف ترجمان القرآن ہی لکھا ہوتا اور زندگی میں کچھ نہ کیے ہوتے تب بھی ان کی عظمت کو کافی تھا ۔”تذکرہ“یوں تو بظاہر ان کی اور ان کے خاندان کے بزرگوں کی داستان حیات ہے لیکن یہاں بھی در اصل وہی سوز و ساز کی کارفرمائی ہے ۔وہی عظمت دین مبین کو راسخ کرنے کا جذبہ ہے،وہی عظمت اسلاف کوپانے کی للک ہے،وہی صدق و صفا اور ایمان و یقین کی تلاش ہے اور پوری کی پوری کتاب محبت و ایمان ،صداقت و للہیت اور استقلال و استقامت کی نہایت بہترین مثالوں کا حسین ترین ریکارڈ ہے ۔ اے کاش ! لوگ باگ کبھی اس کے اسلوب کے گھن گرج سے نکل کر اس کے بین السطورکے درد و الم اور ٹیس کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے۔
”غبار خاطر“کومولانا آزاد کی ادبی عظمت کے نشان کے طور پر دیکھاجاتا ہے اور اس میں بھلا کسی کو کیا گمان ہو سکتا ہے کہ غبار خاطر اردو ادب کے ماتھے پہ خوبصورت و دلکش جھومر سے کم نہیں اور اس کا ایک ایک پیراگراف ادب عالیہ کا لا جواب شاہکار ہے لیکن ان خطوط کے اندر بھی مولانا کے محکم دینی افکار کے واضح نقوش نظر آتے ہیں ۔کئی ایک خطوط کے اندر خدائے واحد کی ربانیت و حدانیت اور اس کے حقیقی وجود کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ بہت سی دینی کتابوں پہ بھاری ہے ۔
مولانا آزاد کی پیدائش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جو بدعات و خرافات اور رسوم و اوہام کو نہ صرف دین سمجھتا تھا بلکہ اس کے ماسوا کو کفر سے کم بھی نہیں سمجھتا تھا ۔البتہ اللہ کے فضل سے مولانا نے سنت ابراہیمی کو زندہ کرتے ہوئے ورثے میں ملے اس عقیدے کی جگہ خالص کتاب و سنت سے ماخوذ اسلامی عقیدہ پر اپنا یقین جمایا اور زندگی بھر اسی کا پرچار و پرسار کیا ۔ تقلید ،بدعت،دنیا پرستی ،بزدلی ،ابن الوقتی اور منافقت کے خلاف سینہ سپر رہے اور حق و صداقت کا علم بلند رکھا ۔
آزادی ءہند سے پیشتر جب جنگ آزادی میں حصہ لیا تو تنہا اس کے کارکن نہیں رہے بلکہ اپنے ملکئہ تقریر و تحریر سے پوری قوم کو مین اسٹریم (Main Stream ) سے جوڑ دیا اور وہ بھی قرآن و سنت کے مضبوط دلائل و براہین سے ۔جس کا اعتراف مولانامحمود الحسن دیوبندی نے یہ کہہ کر کیا کہ ہم تو راستہ بھولے ہوئے تھے مولانا آزاد نے ہمیں راستہ دکھلایا ۔بہت سے لوگوں نے غلط طور پر ”حزب اللہ “کو سیاسی جماعت یا سیاسی تحریک بتلانے کی کوشش کی ہے حالاں کہ حزب اللہ سے متعلق تمام تر موجودہ تفصیل سے یہی پتہ چلتا ہے کہ مولانا آزاد روئے زمین پر اللہ والوں کا ایسا گروہ پیدا کرنا چاہتے تھے جو ہمہ وقت راہ خدا میں خود کو لگانے کو تیار ہوں اور جو انتہائی درجے تک مخلص اور عملی ہوں ۔افسوس کہ یہ خواب پورا نہ ہو سکا ورنہ تاریخ کے دھاروں میں کچھ موجوں کی داستان ہی نہیں عین ممکن ہے تاریخ کا دھارا ہی کچھ اور ہوتا ۔
بیت المال کے نظام کے قیام کی کو شش میں آپ کا اجتہادی کردار بھلایا نہیں جاسکتا ۔جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ جماعت اسلامی ہند ہو یا امارت شرعیہ بہار،جھارکھنڈ اور اڑیسہ یہ در اصل مولانا آزاد کے دکھلائے ہوئے راستے کا ہی پر تو ہیں ۔ پورے ہندوستان کی سطح پر امام المسلمین کی بابت اور اسلامی نظام حیات کا پہلا خواب مولانا آزاد ہی نے دیکھا تھا ۔بدعات و رسوم اور ضلالت و اوہام کے خلاف جتنی بے باکی اور پا مردی سے مولانا آزاد نے قلمی ،عملی اور علمی جہاد کیا وہ کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔
عام طور پر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ آزادی کے بعد مولانا نے کیا کیا،اب اگر حالات سے واقف ہوئے بغیر کوئی یوں ہی بڑ بڑاتا رہے تو کیا کہا جا سکتا ہے ۔ورنہ جانکاروں کو پتہ ہے کہ مولانا آزاد نے کیا کیاکیا ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو کس نے بچایا ،دار المصنفین کی ساکھ کس نے مضبوط کی ،جامعہ ملیہ کو کس نے سہارا دیا ،شاید ان باتوں سے لوگوں کو سروکار نہیں ہوتا۔آزادی کے بعد طوفان فسادات کے آگے کون کھڑا ہوا،کس نے ڈھارس بندھائی ،کس نے کمزور دلوں کوحوصلہ دیا ،کس نے بے کسوں کے لیے نئے نئے راستے نکالے ،کس نے ہندو انتہا پسندوں کو پنپنے سے ہر ممکن طور پر روکنے کی کوشش کی ،کس نے ہجرت کرنے والوں کو ٹھہرنے پر مجبور کیا ،کس نے گالیاں سنیں اور آہ تک نہ کی اور ہمیشہ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے سوچا بھی اور عملی طور پر جو بن پڑا ،کیا بھی ۔
ہندوستان کوا س ایک آدمی نے ایمان داری ،صداقت،اصول پسندی اورخود داری کی وہ دولت دی ہے جو شاید اسے کہیں اور نہیں ملتی ۔تقسیم کی مخالفت کی تو جم کر کی اور اس کا پھسپھسا ہونا دلائل سے ثابت کیا۔گاندھی جی جیسے لوگ پھر گئے لیکن یہ پہاڑ اپنی جگہ اٹل رہا ۔بظاہر اپنے نظریے میں شکست کھانے والے اس قائد سے لوگوں کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں ،وہ بجا بھی تھیں اور بے جا بھی ۔مولانا آزادکی قوم کو تو پاکستان مل گیا تھا پھر ایسے میں وہ کیا کر سکتے تھے ؟ اس نکتے پر اگر نظر ہو تو مولانا آزاد کی مجبوری اور ان کی بے کسی کا اندازہ لگایا جا سکے گا ۔ اس کے باوجود مولانا آزاد نے خارجہ پالیسی سے لے کر داخلہ پالیسی تک میں ایک توازن پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ ہندوستان کو ایک مضبوط سیکولر آئین اور ملک کو جمہوری رخ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ اللہ کے فضل وکرم کے بعد اگر مولانا آزاد نہ ہوتے تو شاید آج ہندوستان کا مسلمان اتنا بھی محفوظ و مامون اور قوی نہ ہوتا جتنا اس گئے گزرے دور میں بھی نظر آتا ہے ۔
اگر صرف ظاہری کامیابی کو معیار سمجھ لیا جائے تو نعوذ باللہ انبیاءکرام میں بھی ہمیں ناکام لوگ مل جائیں گے بلکہ ایسی صورت میں الا ما شاءاللہ سب کے سب ناکام ہی کہلائیں گے ۔لیکن کیا کوئی بے عقل سے بے عقل بھی ایسا سوچ سکتا ہے ؟؟؟ کیا تحریک شہیدین ناکام ہوئی ؟؟؟کیا انبیاءکرام کے بعد اسلاف امت کے وہ قافلے جو راہ حق میں فنا ہوئے وہ ناکام ہوئے ؟ ؟؟ہر نتیجہ سامنے کھل کر نظر آئے یہ ضروری تو نہیں۔صاحب نظر جانتے ہیں کہ مولانا آزاد کی ذات سے اللہ پاک نے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کیا کیاکام لیا اور کس طرح ہر دو صورت میں ان کی ذات کو ”منبع خیر “بنا دیا ۔
تعصب کے عینک کو اٹھا کر اگر مولانا آزاد کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے اور ان کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مولانا آزاد در اصل اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک تھے اوروہ امت مسلمہ ہند کے مسیحا تھے ۔ اللہ کے یہاں ہر آدمی کا ایک ایک عمل ریکارڈ کیا گیا ہوا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ ہمیں حق کی راہ کا راہی بنائے ۔مولانا آزاد کی لغزشوں سے درگذر کرے اور ان کے حسنات کو شرف قبولیت بخشے ۔(آمین )
خدا مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
ہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مولانا آزاد کی شخصیت کے اوپر کچھ اوچھے قسم کے حملے بھی کیے گیے جن میں شراب نوشی اور ترک صلوة کو زیادہ ہائی لائٹ کیا گیا ، اس کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ”سبحانک ھذا بھتان عظیم “ترک صلوة سے متعلق مولانانے سید سلیمان ندوی کے نام اپنے خط میں اس کی پوری کافی و شافی وضاحت کر دی ہے اور بجا طور پر مولانا سید سلیمان ندوی سے شکایت کی ہے کہ انہوں نے بھی ان افواہوں پر کان دھر لیا اور جہاں تک شراب نوشی کی بات ہے توغالب کے بقول
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
دعا ہے کہ اللہ کسی کو فکر کا اتنا کوتاہ قد نہ بنائے کہ وہ اس حد تک بد گمانیوں کا شکار ہوجائے ۔
نوٹ :۔مولانا آزاد سے متعلق تفصیلی موا د کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا۔
(۱) آزاد کی کہانی آزاد کی زبانی :عبد الرزاق ملیح آبادی (۲) تذکرہ :مولانا ابو لکلام آزاد (۳)غبار خاطر:مولانا ابو لکلام آزاد (۴) ہماری آزادی :مولانا ابو لکلام آزاد (یہ کتاب India Wins Freedom کا ترجمہ ہے )(۵) ذکر آزاد :مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی (۶) مولانا ابو لکلام آزاد:عرش سلیمانی (۷) مولانا آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت :رشید الدین خاں(۸) مولانا آزاد شخصیت اور کارنامے :خلیق انجم (۹) مولانا آزاد کا ذہنی سفر :ظ ۔انصاری (۰۱) مولانا ابو لکلام آزاد ۔فکر وفن:ملک زادہ منظور احمد (۱۱) مولانا ابو لکلام آزاد کا اسلوب نگارش :ڈاکٹر عبد المغنی (12) نقد آزاد : پروفیسر رضی الدین احمد وغیرہ

